17 فروری 2013 - 20:30

پاکستان کے شہر کوئٹہ میں شیعہ مسلمان ابھی دس جنوری کے دہشتگردانہ واقعے میں اپنے سے جدا ہوجانے والے عزیزوں کا غم نہیں بھلا پائے تھے کہ اغیار کے پروردہ اور تربیت یافتہ دہشتگردوں نے ایک بار پھر اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر اس شہر میں شیعہ مسلمانوں کو اپنے بہیمانہ حملے کا نشانہ بنا کر اس بات کا ثبوت فراہم کر دیا کہ وہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لۓ پاکستان کو غیر مستحکم تک کرنےکے لۓ بھی تیار ہیں۔

ابنا: کل کوئٹہ کے نواحی علاقے کرانی روڈ زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور شہر کے وسطی علاقے میں بھی سنی گئی۔ دھماکے سے متعدد دکانوں اور عمارتوں کو نقصان پہنچا اور ایک دو منزلہ عمارت زمین بوس بھی ہوگئی۔ ملبے تلے بھی متعدد افراد دب گئے. اس دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد ایک سو نو ہوگئی ہے۔ ان دہشتگردانہ واقعات کی مذمت اور ان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور مجلس وحدت مسلمین کی کال پر کوئٹہ میں شٹر ڈائون ہڑتال کی جا رہی ہے اور تین سے سات یوم کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے.علامہ سید ساجد علی نقوی نے سانحہ کوئٹہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئے روز بم دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے سانحہ کوئٹہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذمہ دار بتائیں کہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں کون سی رکاوٹ درپیش ہے، عوام کو حقائق کیوں نہیں بتائے جا رہے ہیں۔ ہمارے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے۔سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین شعبہ مشھد مقدس نے اس واقعہ کا ذمہ دار ان لوگوں کو ٹھہرایا جنہوں نے گورنر راج کی مخالفت کی اور جو رئیسانی حکومت کی بحالی پر زور دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کچھ دنوں کے توقف کے بعد دھشت گرد دوبارہ اپنے بلوں سے باہر آرہے ہیں ۔
حجۃ الاسلام عقیل حسین خان نے ملت کو اپنی صفوں میں اور زیادہ اتحاد کرنا ہو گا اور اپنی طاقت کو منظم کر کے اس دور کے ابلیس نمرود اور یزیدیوں کا مقابلہ کرنا ہو ۔کیونکہ دشمن بھی واضح  ہے اور اسکا ھدف بھی واضح ہے اور دشمن کا گٹھ جوڑ بھی معلوم ہے ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ ،اسرائیل ،طالبان،القائدہ ،قطر  اور سعودی عرب نے دنیا کا امن خطرہ میں ڈالا ہوا ہے اور یہ شیطانی سرکل اقوام عالم کے لئے بھی اور پاکستان کے لئے بھی خطرہ ہے ۔ مولانا عقیل حسین خان نے کہا کہ اب تو سب کچھ واضح ہو چکا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور اسکو کہاں سے سرمایہ مل رہا ہے ۔اور اب ہماری حکومت کو بھی ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ۔ انھوں نے پاکستان میں قیام امن کے لۓ فوج کے کردار پر تاکید کی۔

.......

/169